ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملائم کی پارٹی لیڈروں کو نصیحت ، پڑھ لکھ کرہی زبان کھولیں سماج وادی

ملائم کی پارٹی لیڈروں کو نصیحت ، پڑھ لکھ کرہی زبان کھولیں سماج وادی

Wed, 29 Jun 2016 21:47:47    S.O. News Service

لکھنؤ، 29؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سماج وادی پارٹی(ایس پی )کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے سبھی سماجوادی لیڈرو ں اور کارکنوں کو مسئلہ پر تنقید کرنے کے ساتھ ہی اس کے حل کی بھی تجویز پیش کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے آج کہا کہ تمام سیاستدانوں کو پڑھنے لکھنے اور پھر بولنے کی عادت ڈالنی چاہیے، تبھی وہ تخلیقی سیاست کر پائیں گے۔ایس پی سربراہ نے اپنے بھائی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کی 70ویں سالگرہ اور ان کی کتاب ’پارلیمنٹ میں میری بات‘کی رسم اجرا کے سلسلے میں منعقد تقریب میں کہا کہ میں نے بار بار پارٹی لیڈروں اور کارکنوں سے کہا ہے کہ پڑھا کرو، لکھو، پھر بولو۔آپ کو پڑھنا، لکھنا اور بولنا چاہیے، تبھی اچھی سیاست کر پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سیاست کرنے والے اور اس کی خواہش رکھنے والے تمام لوگوں کو رام گوپال کی کتاب پڑھنی چاہیے۔اس کتاب میں مسائل پر تنقید کرنے کے ساتھ ہی اس کا حل بھی پیش کیا گیا ہے ۔صرف تنقید سے کام نہیں چلتا ہے۔آپ تنقید کے ساتھ ساتھ حل کی بھی بات کریں۔یادو نے کہا کہ انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی معاملہ کی تنقید کی اور رام گوپال نے حل کی بات بھی کہی۔اس کی سبھی لوگوں نے تعریف کی ۔ایس پی ہی ایسی پارٹی ہے جسے ملک کے مسائل اور خارجہ پالیسی پر سب سے اچھی رائے ملتی ہے۔وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اس موقع پر کہا کہ آج ملک کو ایک سیکولر اور سوشلسٹ لیڈر کی ضرورت ہے۔اس موقع پر یہاں جمع ہوئے سماج وادیوں کو نیتا جی نے سینچا ہے۔آنے والے وقت میں سماج وادی لوگ ہی نظر آئیں گے ۔آج ہم لوگ الیکشن میں جا رہے ہیں، ایسے میں لوگوں کو رام گوپال کی کتاب سے تمام نکات پر سماج وادیوں کے موقف کو جاننے اور سمجھنے کا موقع ملے گا۔
رام گوپال یادو نے اس موقع پر کہاکہ نیتا جی(ملائم )نے مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی سیاست میں لانے کا کام کیا۔میں ڈگری کالج میں لیکچرر تھا، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ سیاست میں آؤں گا۔بلاک پرمکھ کا الیکشن ہونا تھا۔نیتا جی آئے اور گاڑی پر کھڑے کھڑے کہا کہ مجھے آج ہی پرچہ نامزدگی داخل کرنا ہوگا۔میں بلاک پرمکھ منتخب ہو گیا۔بعد میں ضلع پنچایت کا صدر ہوا،پھر 5 ؍جولائی 1992کو نیتا جی نے مجھے راجیہ سبھا بھیجا۔انہوں نے کہا کہ بڑی عمر کے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اس وقت پارٹی کے بڑے لیڈر ہمارے خلاف ہو گئے تھے۔ہمارے پاس 29ممبران اسمبلی تھے اور 36ممبران اسمبلی کی حمایت کی ضرورت تھی، لیکن نیتا جی کی شخصیت کی وجہ سے مجھے 44اراکین اسمبلی کاساتھ ملا اور میں راجیہ سبھا پہنچ گیا۔ایس پی سربراہ کے چھوٹے بھائی اور ریاست کے سینئر کابینہ وزیر شیو پال سنگھ یادو نے اس موقع پر کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں سے اگر کوئی ٹکرا سکتا ہے تو وہ صرف سماج وادی ہیں۔اگر ہم لوہیا اور نیتا جی کے خیالات کو لے کر چلے تو فرقہ پرست طاقتوں کے لیے بڑی مشکل کھڑی ہو جائے گی۔پروگرام سے سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن امر سنگھ نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی میں لوہیا نے اپنی منتخب حکومت کے خلاف بول دیا تھا۔یہاں بولنے کی آزادی ہے مگر ہم پر جب حملہ ہوتا ہے تو ہم سب مل کر مارتے ہیں۔انہوں نے شیو پال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی خوشی اور غم کے ساتھی ہیں اور وہ ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے ہیں۔


Share: